
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران میں جاری جنگ نے عالمی فضائی سفر کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں، پروازیں اچانک منسوخ ہو رہی ہیں اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خاص طور پر ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے کی فضائی حدود غیر محفوظ ہونے کے باعث کئی ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کے روٹس تبدیل کر دیے ہیں یا انہیں عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف سفر کے دورانیے کو بڑھا دیا ہے بلکہ اخراجات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ کئی ایئرلائنز بغیر پیشگی اطلاع کے پروازیں منسوخ کر رہی ہیں، جبکہ بعض کیسز میں اوور بکنگ کے باعث مسافروں کو جہاز میں سوار ہونے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔ کچھ مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے متعدد فلائٹس تبدیل کرنا پڑ رہی ہیں، جس میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث فضائی کمپنیوں کو خطرناک فضائی راستوں سے گزرنے سے اجتناب کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف فلائٹ آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں بلکہ مسافروں کی سہولت بھی کم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ انشورنس کمپنیاں بھی جنگی حالات میں ہونے والے نقصانات کو اکثر کور نہیں کرتیں، جس سے مسافروں کے مالی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی فضائی سفر کو مہنگا بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول ایئرلائنز کے اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اور خلیج کے اہم راستوں میں کشیدگی کے باعث اس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کا براہ راست اثر ٹکٹوں پر پڑ رہا ہے۔

فضائی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ صورتحال اس حد تک غیر یقینی ہو چکی ہے کہ کئی کمپنیاں غیر ضروری سفر پر پابندی لگا رہی ہیں، جبکہ بڑے ایوی ایشن ایونٹس میں بھی شرکت کم ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایوی ایشن سیکٹر اس وقت “بقا کی حالت” میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ترجیح صرف نقصانات کو کم کرنا ہے۔
اگرچہ کچھ ممالک، جیسے سنگاپور، متبادل روٹس کے باعث جزوی طور پر بہتر پوزیشن میں ہیں، لیکن مجموعی طور پر عالمی فضائی سفر ایک نئے بحران سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران جنگ طول پکڑتی ہے تو نہ صرف فضائی سفر مزید مہنگا اور غیر یقینی ہو جائے گا بلکہ عالمی سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں مسافروں کو پیشگی منصوبہ بندی، براہ راست پروازوں کا انتخاب اور ممکنہ تاخیر کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔


