
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکام رہی تو اسرائیل خود کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل حزب اللہ کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اپنی سرحدی سکیورٹی کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ لبنان کی حکومت کی جانب سے وعدوں کے باوجود حزب اللہ نہ صرف فعال ہے بلکہ جنوبی لبنان سے اسرائیل کے خلاف حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف اسرائیلی بلکہ لبنانی شہریوں کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
ڈیفرن نے کہا کہ حزب اللہ ایران کے ساتھ مل کر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملوں میں ملوث رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما وافیق صفا کے حالیہ بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں انہوں نے اعتراف کیا کہ تنظیم گزشتہ کئی مہینوں سے اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ میزائلوں، ڈرونز اور زمینی فورسز کی تعداد اور معیار دونوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

صفا نے لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کسی دباؤ میں آنے والی نہیں اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جاری کشیدگی کے باوجود حزب اللہ خود کو مضبوط پوزیشن میں دیکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان کے جنوبی علاقوں میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو یہ ایک بڑے علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان کی داخلی سیاسی کمزوری اور حزب اللہ کی مضبوط عسکری حیثیت اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جبکہ ایران کی حمایت اس تنازع کو علاقائی سطح پر پھیلا سکتی ہے۔
موجودہ حالات میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی ایک نئی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔


