
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے صرف چار ہفتوں کے دوران 850 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل استعمال کیے ہیں، جس نے پینٹاگون کے اندر ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق تشویش پیدا کر دی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق اس رفتار سے میزائلوں کا استعمال امریکی عسکری حکمت عملی اور مستقبل کی تیاریوں پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹوماہاک میزائل امریکا کے انتہائی اہم اور مہنگے پریسیژن ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں، جو دور فاصلے سے انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان کی محدود دستیابی کے باعث مسلسل اور بڑے پیمانے پر استعمال نے حکام کو متبادل حکمت عملیوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ میں امریکا نے زیادہ تر حملے دور سے کیے ہیں، جن میں بحری جہازوں اور آبدوزوں سے داغے گئے میزائل کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد زمینی فوج کے بغیر اہداف کو نشانہ بنانا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مہنگے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پینٹاگون کے اندر اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ٹوماہاک میزائلوں کی پیداوار کیسے بڑھائی جائے اور موجودہ ذخائر کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم لاگت متبادل ہتھیاروں کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ طویل مدت میں جنگی اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں پریسیژن ہتھیاروں پر انحصار بڑھ چکا ہے، لیکن ان کی تیاری مہنگی اور وقت طلب ہوتی ہے، جس کی وجہ سے طویل جنگوں میں سپلائی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو امریکا کو مستقبل میں اپنے دفاعی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
دوسری جانب یہ صورتحال اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں شدت برقرار ہے، جہاں اہم فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل جنگ نہ صرف عسکری بلکہ معاشی لحاظ سے بھی چیلنج بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکا اپنی موجودہ حکمت عملی کو جاری رکھتا ہے یا ہتھیاروں کے استعمال میں تبدیلی لاتا ہے، کیونکہ یہی فیصلہ جنگ کے اگلے مرحلے کا تعین کرے گا۔


