
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق امریکا اب تک ایران کے میزائل ذخیرے کے صرف ایک تہائی حصے کی تباہی کی تصدیق کر سکا ہے، جبکہ باقی ذخیرے کے بارے میں صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کے مزید ایک تہائی میزائل یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا زیر زمین سرنگوں اور بنکروں میں دب گئے ہیں، تاہم ان کی مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے زیر زمین میزائل نظام اور خفیہ ذخائر اس جنگ میں ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہے ہیں۔
اسی طرح امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ ایران کے ڈرون بیڑے کا بھی تقریباً ایک تہائی حصہ تباہ کیا جا چکا ہے، لیکن باقی صلاحیت اب بھی موجود ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوا اور اس کے پاس جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار ہے۔
یہ معلومات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے مختلف ہیں جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے پاس اب بہت کم میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں درست معلومات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہتھیار زیر زمین چھپائے گئے ہوں۔

پینٹاگون کے ایک اہلکار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی میزائل، ڈرون اور بحری صلاحیتوں سے متعلق 66 فیصد سے زائد پیداواری تنصیبات کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق 28 فروری سے جاری آپریشن کے دوران ایران کے 10 ہزار سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ بڑی بحری صلاحیتوں کا بھی بڑا حصہ ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم حکام نے میزائل ذخیرے کی اصل تعداد یا مکمل نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل ایران کے پاس تقریباً 2500 بیلسٹک میزائل موجود تھے، جن میں سے بڑی تعداد اب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو سکتی ہے۔ ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق ایران کے تقریباً 70 فیصد میزائل لانچرز کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے، لیکن باقی صلاحیت کو ختم کرنا زیادہ مشکل مرحلہ ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، لیکن مکمل طور پر اسے ختم کرنا آسان نہیں۔ خاص طور پر زیر زمین تنصیبات اور متحرک لانچرز اس جنگ کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکا باقی میزائل صلاحیت کو کس حد تک کم کر پاتا ہے، کیونکہ یہی عنصر خطے میں سکیورٹی اور طاقت کے توازن کا تعین کرے گا۔


