تازہ ترینسعودیہ

سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملہ، اہلکار زخمی، طیاروں کو نقصان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

سعودی عرب میں واقع اہم امریکی فضائی اڈے پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملے میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہو گئے ہیں جبکہ کئی فوجی طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ حملہ 27 مارچ کو پرنس سلطان ایئر بیس پر کیا گیا، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی آپریشنز کا ایک مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں تقریباً 10 امریکی اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حملے کے دوران ایک ایرانی میزائل اڈے پر گرا جبکہ اس کے ساتھ متعدد ڈرونز بھی استعمال کیے گئے، جس سے نقصان میں اضافہ ہوا۔

دفاعی ذرائع کے مطابق اس حملے میں ایئر ریفیولنگ طیاروں کے علاوہ ایک اہم ای-3 سینٹری (AWACS) کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ بھی متاثر ہوا، جو فضائی نگرانی اور آپریشنز میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم ان نقصانات کی مکمل آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس واقعے پر فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔ تاہم اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد سے زائد کمی آئی ہے اور ایران کی عسکری پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ تباہ کیا جا چکا ہے۔

اس کے باوجود حالیہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اب بھی اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات بدستور خطرے میں ہیں۔

پرنس سلطان ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی کارروائیوں کے لیے نہایت اہم مرکز ہے، جہاں مختلف قسم کے جنگی اور معاون طیارے تعینات ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اڈے کو نشانہ بنانا ایک اسٹریٹجک پیغام بھی ہو سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق جاری آپریشن کے دوران اب تک 300 سے زائد فوجی زخمی جبکہ کم از کم 13 ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرونز کا مشترکہ استعمال ایک جدید جنگی حکمت عملی ہے، جس سے دفاعی نظام کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ ایسے حملے مستقبل میں بھی خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ واقعہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ اگرچہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے، لیکن وہ اب بھی مؤثر جوابی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button