اسرائیلتازہ ترین

اسرائیل کے ایران کی دو اہم جوہری تنصیبات پر حملے، تابکاری لیک نہ ہونے کی تصدیق

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دو اہم تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ہیوی واٹر پلانٹ اور یلو کیک (یورینیم پراسیسنگ) کی پیداوار سے متعلق مرکز شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات میں کوئی جانی نقصان یا تابکاری اخراج نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حملہ خنداب (اراک) کے مقام پر واقع ہیوی واٹر پلانٹ پر کیا گیا، جو ماضی میں پلوٹونیم پیدا کرنے والے ری ایکٹر سے منسلک رہا ہے۔ اگرچہ یہ ری ایکٹر اس وقت فعال نہیں، تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں اس تنصیب کی دوبارہ بحالی کی کوششیں جاری تھیں، جس کے باعث اسے دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔

دوسرا حملہ یزد صوبے کے اردکان علاقے میں واقع شہید رضائی نژاد یلو کیک پیداوار مرکز پر کیا گیا، جو ایران میں یورینیم کے ابتدائی پراسیسنگ مراحل کے لیے ایک اہم تنصیب سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یلو کیک وہ بنیادی مواد ہوتا ہے جسے بعد میں یورینیم افزودگی کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایرانی حکام نے بتایا کہ دونوں حملوں کے باوجود نہ تو کوئی تابکاری اخراج ہوا اور نہ ہی ماحولیات کو نقصان پہنچا۔ ایران نے اس حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی آگاہ کر دیا ہے، جس نے صورتحال پر نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ان مخصوص تنصیبات کو نشانہ بنانا اس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور مختلف محاذوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک حساس معاملہ ہے، جس کے باعث کسی بڑے حادثے یا وسیع تنازع کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ حملے محدود رہیں گے یا اس کے نتیجے میں خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ تصادم کی راہ ہموار ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button