ایرانتازہ ترین

ایران کا مستقبل؟ رضا پہلوی کی بڑی تجویز سامنے آگئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے سابق شاہ کے بیٹے اور جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایک بار پھر ایران کے مستقبل سے متعلق اپنا وژن پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے موجودہ نظام کے خاتمے اور ایک ایسے ایران کی بات کی ہے جو اسرائیل اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کرے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصور جتنا پرکشش دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی پیچیدہ اور چیلنجز سے بھرپور بھی ہے۔

امریکہ میں ہونے والی ایک سیاسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا پہلوی نے کہا کہ ایک نیا مشرق وسطیٰ ممکن ہے جہاں ایران اسرائیل کا دوست ہو اور خطے میں امن کے نئے معاہدے سامنے آئیں۔ انہوں نے "سائرس معاہدوں” کا تصور پیش کیا، جسے وہ ابراہیم معاہدوں کی توسیع کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے موجودہ ایرانی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نظام پورے ایران کی نمائندگی نہیں کرتا اور اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ایک ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ عوامی سوچ کے طور پر۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری ایران نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل کے ساتھ بھی شراکت داری کر سکتا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی اپوزیشن اس وقت شدید تقسیم کا شکار ہے، جس کی وجہ سے کسی متبادل نظام کا فوری طور پر سامنے آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے اندر موجود سیاسی، مذہبی اور عسکری طاقت کے مراکز بھی کسی بڑی تبدیلی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

اسرائیلی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران کی موجودہ حکومت نے خطے میں مختلف گروہوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا ہے، جن میں حزب اللہ، عراقی ملیشیائیں اور یمن کے حوثی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں ایران کو ایک مستقل سیکیورٹی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق رضا پہلوی کی باتوں میں ایک سیاسی پیغام ضرور موجود ہے، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی ہمیشہ کے لیے مقدر نہیں۔ تاہم وہ خود بھی کسی فوری سیاسی تبدیلی یا اقتدار کے واضح منصوبے کے ساتھ سامنے نہیں آئے۔

ادھر بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات مغربی دنیا، ایرانی عوام اور خطے کے ممالک کو ایک متبادل سوچ دینے کی کوشش ہیں، تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ تبدیلی کی صورت میں نئی سمت طے کی جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وژن کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے مضبوط سیاسی ڈھانچہ، عوامی حمایت اور بین الاقوامی سطح پر واضح حکمت عملی درکار ہوگی۔ موجودہ حالات میں یہ ایک نظریاتی خاکہ تو ضرور ہے، مگر عملی شکل اختیار کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف بیانات کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات، سفارتی کوششیں اور اندرونی استحکام بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رضا پہلوی کے وژن کو ایک ممکنہ راستہ تو سمجھا جا رہا ہے، لیکن اسے حقیقت بنانے کے لیے ابھی طویل سفر درکار ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button