
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں اعلیٰ سطح پر مسلسل مشاورت جاری ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اکثریتی رہنما اسٹیو اسکیلز نے عندیہ دیا ہے کہ اگرچہ اس وقت ایران میں امریکی فوج موجود نہیں، تاہم مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت مختلف آپشنز پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم کسی بھی فیصلے کا اعلان عوامی سطح پر نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران عالمی برادری کے لیے قابل قبول نہیں، اسی لیے تمام امکانات زیر غور رکھے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سیاست میں اس معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔ تاہم اسکیلز نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو پہلے ہی مختلف بریفنگز دی جا چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف کارروائی سے قبل چند اہم قانون سازوں کو اعتماد میں لیا تھا، تاہم باضابطہ منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر قانونی اور آئینی بحث بھی جاری ہے۔

ادھر ڈیموکریٹک سینیٹر کرس وان ہولن نے اس ممکنہ جنگ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر ضروری اور مہنگی جنگ ہے جو نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روزانہ اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں جبکہ تیل اور گیس کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران میں زمینی کارروائی کی طرف جاتا ہے تو یہ تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف خطے میں عدم استحکام بڑھے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتی راستہ ہی بہتر حل ہو سکتا ہے، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے میں آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تنازع مزید شدت اختیار کرے گا یا کسی ممکنہ مذاکرات کی طرف پیش رفت ہوگی۔



