امریکاتازہ ترین

ٹرمپ ایران کے یورینیم پر کارروائی پر غور میں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے یورینیم ذخیرے کو حاصل کرنے کے لیے ایک ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں، جسے ماہرین نہایت پیچیدہ اور خطرناک اقدام قرار دے رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایران میں موجود تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ افزودہ یورینیم کو نکالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ آپریشن امریکی افواج کو ایران کے اندر داخل ہونے پر مجبور کر سکتا ہے، جہاں انہیں کئی دن یا اس سے زیادہ عرصے تک کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران امریکی فوج کو ایران کے جدید دفاعی نظام، میزائلوں اور ڈرونز جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی انتہائی حساس ہوتی ہے، جس میں پہلے مخصوص مقامات کو محفوظ بنانا، پھر یورینیم ذخائر کی نشاندہی اور بعد ازاں اسے محفوظ طریقے سے منتقل کرنا شامل ہوتا ہے۔ یہ مواد خصوصی کنٹینرز میں رکھا جاتا ہے، جس کی منتقلی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سخت سیکیورٹی درکار ہوتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس آپشن پر اس لیے غور کر رہے ہیں تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ تاہم وہ اس کے ساتھ ساتھ سفارتی راستوں کو بھی زیر غور رکھے ہوئے ہیں، اور بعض مواقع پر ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ خود یہ مواد حوالے کرے۔

ادھر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ آپریشن کیا جاتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تنازع ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان، ترکی اور مصر جیسے ممالک اس معاملے میں پسِ پردہ رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی باضابطہ مذاکراتی عمل شروع نہیں ہو سکا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پینٹاگون مختلف آپشنز کی تیاری کر رہا ہے تاکہ حکومت کے پاس ہر ممکن راستہ موجود ہو، لیکن فی الحال کسی بھی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب کچھ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر یہ آپریشن محدود دائرے میں کامیابی سے مکمل ہو جائے تو تنازع کو جلد ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم دیگر ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور اسے طویل جنگ کا سبب قرار دیتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں امریکہ نے ایسے مشنز انجام دیے ہیں، جیسے 1994 میں قازقستان سے جوہری مواد کی منتقلی، تاہم موجودہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے کیونکہ یہ ایک فعال تنازع کے دوران کیا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ امریکہ سفارتی راستہ اختیار کرتا ہے یا فوجی آپشن کی طرف بڑھتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں ہر فیصلہ خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button