
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جہاں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں کب تک موجود رہے گی۔ حالیہ جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں نے نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ پورے لبنان کی داخلی صورتحال کو بھی متاثر کیا ہے۔
سرحد کے قریب اسرائیلی قصبوں میں خطرے کے سائرن مسلسل بج رہے ہیں، جہاں حزب اللہ کی جانب سے ڈرونز اور میزائل حملے جاری ہیں۔ بعض حملوں کو اسرائیلی دفاعی نظام نے ناکام بنایا، جبکہ کچھ دھماکے سرحدی علاقوں میں سنے گئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں تیز ہوئے جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائیاں شروع کیں، جس کے بعد حزب اللہ نے بھی محاذ کھول دیا۔
اسرائیلی فوج نے جواب میں لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں اور جنوبی لبنان میں محدود زمینی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں، تاہم ابھی تک مکمل زمینی جنگ سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی ایک "کنٹرولڈ اسکیل” پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً دس لاکھ لبنانی شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔ متاثرہ افراد میں بڑی تعداد جنوبی علاقوں اور بیروت کے مضافاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے شیعہ کمیونٹی کے افراد کی ہے، جو پہلے ہی معاشی بحران کا شکار تھے۔
لبنان کے اندر اس صورتحال نے سماجی اور سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بعض حلقے حزب اللہ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا لازمی حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی زمینی موجودگی کو طول دیتا ہے تو یہ 2006 کی جنگ جیسی صورتحال کو دوبارہ جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لبنان ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنتا جا رہا ہے، اور اگر سفارتی حل نہ نکالا گیا تو یہ تنازع ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔



