اسرائیلتازہ ترین

حوثیوں کی جنگ میں شمولیت کے بعد اسرائیل کو نئی مشکل، یمن محاذ کھولنے یا گریز پر غور

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیل کو یمن میں حوثی گروپ کی حالیہ شمولیت کے بعد ایک نئی عسکری اور اسٹریٹجک مشکل کا سامنا ہے، جہاں یہ فیصلہ کرنا پیچیدہ ہو گیا ہے کہ آیا ایک نیا محاذ کھولا جائے یا موجودہ محاذوں پر ہی توجہ مرکوز رکھی جائے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی قیادت اس وقت اس معاملے پر غور و فکر کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج فی الحال یمن میں براہ راست کارروائی سے گریز کرنا چاہتی ہے تاکہ ایران اور لبنان میں جاری آپریشنز پر توجہ برقرار رکھی جا سکے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا تو یمن کے خلاف پہلے سے تیار کیے گئے ہنگامی منصوبوں کو فعال کیا جا سکتا ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق یمن کا محاذ جغرافیائی لحاظ سے اسرائیل سے تقریباً دو ہزار کلومیٹر دور ہے، جس کے باعث وہاں کارروائی نہ صرف تکنیکی بلکہ لاجسٹک لحاظ سے بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ممکن اقدام کو سوچ سمجھ کر اٹھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمت عملی کا ایک حصہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کو میدان میں لا کر اسرائیل کی توجہ اور وسائل کو تقسیم کیا جائے، تاکہ ایک ساتھ کئی محاذوں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی فضائیہ اور انٹیلی جنس پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

ایک فوجی ذریعے کے مطابق اگر اسرائیل یمن میں حملے کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران یا لبنان میں کارروائیوں کے لیے دستیاب وسائل کم ہو جائیں گے، جو ایک اہم اسٹریٹجک چیلنج ہے۔

ادھر حوثی گروپ نے حالیہ دنوں میں اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے آنے والے ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران بھی اسرائیل اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں یمن میں فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس کے نتیجے میں اہم تنصیبات کو نقصان اور جانی نقصانات بھی ہوئے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ایک سے زائد محاذ کھلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہوگا کہ وہ اپنے وسائل کو کس طرح تقسیم کرتا ہے اور کس محاذ کو ترجیح دیتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button