اسرائیلتازہ ترین

23 سالہ اسرائیلی نوجوان پر ایران کے لیے جاسوسی کا مقدمہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیل کے شہر ایلات سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ نوجوان پر ایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ مبینہ طور پر کام کرنے اور حساس فوجی تنصیبات کی ویڈیوز بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے اہم فوجی اڈے سمیت متعدد حساس مقامات کی فلم بندی کی، جس کے بعد اس کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق نوجوان کو مبینہ طور پر ٹیلیگرام کے ذریعے اس وقت رابطہ کیا گیا جب وہ ملازمت کی تلاش میں تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسے مختلف مقامات کی ویڈیوز بنانے کے لیے ہدایات دی گئیں، جن میں اوودا ایئر بیس بھی شامل تھا جہاں وہ خود کام کرتا تھا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے نہ صرف فوجی اڈے کے اندر بلکہ اس کے اطراف کے راستوں اور اہم تنصیبات کی بھی ویڈیوز تیار کیں۔ ان خدمات کے بدلے اسے چند سو ڈالر کی ادائیگی آن لائن ذرائع جیسے پے پال اور دیگر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی گئی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم کو ایک مرحلے پر شک ہو گیا تھا کہ اس کا رابطہ ایرانی عناصر سے ہے، تاہم اس کے باوجود اس نے مبینہ طور پر یہ سرگرمیاں جاری رکھیں، جس نے سیکیورٹی خدشات کو مزید سنگین بنا دیا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے بھرتی ہونے والے افراد قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، جہاں معمولی مالی فائدے کے بدلے حساس معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسرائیلی حکام نے اس واقعے کو داخلی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دشمن عناصر اب روایتی جاسوسی کے بجائے ڈیجیٹل ذرائع کو زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگی حالات میں نہ صرف سرحدوں پر بلکہ اندرونی سطح پر بھی سیکیورٹی چیلنجز بڑھ جاتے ہیں، اور ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے سخت نگرانی اور عوامی آگاہی ضروری ہو گئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button