
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق تنازع نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں تیل کی ترسیل کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگی صورتحال نے نہ صرف سپلائی چین کو متاثر کیا بلکہ بحری راستوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی کے باعث کئی آئل ٹینکرز کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران امریکہ کی جانب سے تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو مشرق وسطیٰ کی سپلائی کا جزوی متبادل بن رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل کی بڑھتی ہوئی طلب نے شپنگ ریٹس کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے، کیونکہ طویل فاصلے کی ترسیل کے لیے زیادہ جہازوں کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب محدود بحری راستوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث انشورنس اور لاجسٹکس کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی تجارت پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ حالات عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت صنعتی پیداوار اور صارفین دونوں کو متاثر کرے گی۔ خاص طور پر ایشیا اور یورپ کے درمیان تیل کی ترسیل پر اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ اب زیادہ حساس ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی جغرافیائی کشیدگی کا فوری اثر قیمتوں اور سپلائی پر پڑتا ہے۔



