
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو اس صورت میں بھی ختم کرنے پر آمادہ ہیں، چاہے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہ ہو۔ یہ پیش رفت خطے کی سیکیورٹی اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے مکمل طور پر کھلوانا ایک طویل اور زیادہ خطرناک فوجی مہم کا تقاضا کرے گا، جس کے لیے سیاسی اور عسکری سطح پر بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے اب حکمت عملی میں تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ کا فوری ہدف ایران کی بحری صلاحیت، میزائل ذخائر، دفاعی صنعت اور حملہ آور صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ اس کے بعد جنگی کارروائیوں کو محدود کرتے ہوئے سفارتی دباؤ کے ذریعے ایران کو تجارتی بحری راستے کھولنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اس پالیسی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اپنی بنیادی جنگی کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد مکمل بحری آزادی بحال کیے بغیر ہی جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہوگا، کیونکہ ماضی میں ایسے تنازعات میں اہم تجارتی راستوں کی بحالی کو اولین ترجیح دی جاتی رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ حکمت عملی امریکہ کو فوری فوجی دباؤ سے بچا سکتی ہے، تاہم اس کے معاشی اثرات طویل مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں اور مارکیٹس کو متاثر کر سکتی ہے۔
مزید یہ کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو امریکہ اپنے یورپی اور خلیجی اتحادیوں پر زیادہ ذمہ داری ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہ مستقبل میں اس بحری راستے کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔ اس سے خطے میں طاقت کے توازن اور اتحادیوں کے کردار میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
ماہرین اس پالیسی کو ایک "بڑا جوا” قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اگرچہ امریکہ فوجی لحاظ سے کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی نہ ہونے کی صورت میں عالمی معیشت پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اب مکمل فوجی حل کے بجائے محدود کارروائی اور سفارتی راستے کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم اس حکمت عملی کے نتائج کا انحصار آنے والے دنوں میں ایران کے ردعمل اور عالمی طاقتوں کے کردار پر ہوگا۔



