
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیجی خطے میں ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دفاعی دباؤ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق فروری کے آخر سے اب تک ایران تقریباً 1200 بیلسٹک میزائل اور 4000 ڈرون مختلف اہداف کی جانب داغ چکا ہے۔
ان حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور امریکہ کو بڑے پیمانے پر دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم 2400 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں، جو جنگ سے پہلے موجود ذخائر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس تیز رفتار استعمال نے دفاعی تیاریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نہ صرف دفاعی میزائل بلکہ جدید ہتھیار جیسے ٹوماہاک کروز میزائل اور جاسم (JASSM) جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار بھی تیزی سے استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جو عام طور پر بڑی عالمی طاقتوں کے خلاف توازن قائم رکھنے کے لیے محفوظ رکھے جاتے ہیں، خاص طور پر ایشیا میں چین کے مقابلے کے تناظر میں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ان ہتھیاروں کی پیداوار فوری طور پر اس رفتار سے نہیں بڑھائی جا سکتی جس رفتار سے وہ استعمال ہو رہے ہیں، جس سے مستقبل میں امریکی فوجی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال نے امریکی اتحادیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ جاری ہے اور وہاں بھی مغربی اسلحے کی ضرورت برقرار ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مسلسل حملوں نے ان کے دفاعی نظام کو بھی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو خطے میں دفاعی وسائل کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے، کیونکہ خلیج کا خطہ توانائی کی فراہمی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی قسم کی طویل کشیدگی یا دفاعی کمزوری عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے مسلسل حملے نہ صرف میدان جنگ بلکہ عالمی طاقتوں کی فوجی حکمت عملی، وسائل کی تقسیم اور اتحادیوں کے اعتماد کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جبکہ خلیج ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔



