
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایک جانب امریکہ نے ایران کے اہم فوجی اور ممکنہ جوہری مراکز کو نشانہ بنایا، تو دوسری جانب ایران نے خلیج میں ایک بڑے آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ کر کے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ نے ایران کے شہر اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا، جہاں طاقتور "بنکر بسٹر” بموں کے استعمال سے شدید دھماکے ہوئے۔ سیٹلائٹ اور ویڈیوز میں بڑے آتش گولے اور ثانوی دھماکے دیکھے گئے، جو عموماً اسلحہ ذخائر پر حملوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک کویتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل موجود تھا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق عملے کے تمام افراد محفوظ رہے اور کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، تقریباً بند ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے نہ صرف فوجی طاقت کے مظاہرے ہیں بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہیں کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے اہم اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانا عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
خلیجی ممالک میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ بحری راستوں کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کے حملے جاری رہے تو نہ صرف خطے میں جنگ مزید پھیل سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی سپلائی، تجارتی راستوں اور معیشت پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اب ایک وسیع اور خطرناک رخ اختیار کر رہا ہے، جہاں ہر نئی کارروائی عالمی سطح پر اثرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔



