
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
جاپان نے اپنی دفاعی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تعینات کر دیے ہیں، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ملک کی دفاعی اور جوابی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جدید "ٹائپ-12” میزائل جاپان کے جنوب مغربی علاقے کماموتو کے ایک فوجی اڈے پر تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میزائلوں کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تک بتائی جا رہی ہے، جو پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے اور انہیں دور دراز اہداف تک نشانہ بنانے کے قابل بناتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام جاپان کی روایتی دفاعی پالیسی سے ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ ماضی میں جاپان صرف دفاع تک محدود رہنے کی حکمت عملی اپناتا رہا ہے۔ تاہم نئی صورتحال میں اسے "اسٹینڈ آف” صلاحیت حاصل ہو گئی ہے، جس کے تحت وہ دشمن کے اہداف کو دور سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
جاپانی وزیر دفاع نے اس پیش رفت کو ملک کی سیکیورٹی کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو چکے ہیں، جس کے باعث دفاعی تیاریوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب اس اقدام پر مقامی سطح پر کچھ مخالفت بھی سامنے آئی ہے، جہاں میزائلوں کی تعیناتی کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے علاقے کو ممکنہ دشمن حملوں کا ہدف بنایا جا سکتا ہے اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی جاپان نے جدید ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل جیسے جدید ہتھیار بھی متعارف کرانے کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ آئندہ چند برسوں میں مزید میزائل سسٹمز مختلف علاقوں میں تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
جاپان نے امریکہ سے جدید ٹوماہاک کروز میزائل حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس سے اس کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت مزید مضبوط ہو جائے گی۔ دفاعی بجٹ میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تیاری کو تیز کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان یہ اقدامات خاص طور پر چین کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے پیش نظر کر رہا ہے، جسے وہ اپنے لیے سب سے بڑا علاقائی خطرہ سمجھتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں چین کی بحری اور فضائی سرگرمیوں میں اضافے نے ٹوکیو کی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور جاپان اپنی سیکیورٹی پالیسی کو نئے خطرات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے اثرات خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔



