اسرائیلتازہ ترین

اسرائیل کا بڑا فیصلہ: فرانس کو دفاعی ہتھیاروں کی فروخت معطل

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیل نے فرانس کے ساتھ دفاعی تعاون کے شعبے میں ایک اہم اور غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے اس ملک کو دفاعی سازوسامان کی فروخت عارضی طور پر روک دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس فیصلے کی باضابطہ منظوری دی، تاہم ذرائع کے مطابق اس نوعیت کے بڑے فیصلے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سطح پر منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو یہ احساس بڑھتا جا رہا تھا کہ فرانس کی پالیسیوں میں اس کے لیے اعتماد کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث حساس دفاعی ٹیکنالوجی اور نظاموں کی فراہمی پر نظرثانی ضروری ہو گئی۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب فرانس نے امریکی فوجی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جو اسرائیل کے لیے دفاعی سامان لے جا رہے تھے۔ اس اقدام کو اسرائیلی حلقوں میں "فیصلہ کن موڑ” قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب فرانس اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی غزہ جنگ کے بعد سے دباؤ کا شکار ہیں۔ فرانس نے نہ صرف اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا بلکہ 2025 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک میں بھی شامل ہو گیا، جسے اسرائیل نے اپنے خلاف سیاسی اقدام قرار دیا۔

لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے معاملے پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ فرانس نے لبنان میں مؤثر کردار ادا نہیں کیا بلکہ بعض مواقع پر اسرائیلی کارروائیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مکمل تعلقات ختم نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق پہلے سے طے شدہ دفاعی معاہدوں پر عمل جاری رہے گا اور نجی سطح پر محدود تعاون بھی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل اب بھی فرانس سے دفاعی سامان خرید سکتا ہے، اگر فرانس اس پر آمادہ ہو۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے فرانس کو خاص طور پر نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں یورپی ممالک، خصوصاً جرمنی، اسرائیلی فضائی دفاعی نظام اور جدید ٹیکنالوجی خریدنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں، خاص طور پر یوکرین جنگ کے بعد سیکیورٹی خدشات میں اضافے کے باعث۔

یاد رہے کہ فرانس نے 2024 میں غزہ میں انسانی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی محدود کر دی تھی اور اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کی نمائش پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں۔

ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فرانس پر تنقید کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے لیے "غیر مددگار” قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اس رویے کو یاد رکھے گا۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل اور فرانس کے درمیان یہ بڑھتی ہوئی دوری نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ یورپ اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں اس تنازع کے مزید گہرے ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button