تازہ ترینمشرق وسطی

خلیجی پانیوں میں جہازوں پر حملے، آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیج کے حساس سمندری راستوں میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جہاں تازہ اطلاعات کے مطابق دو الگ الگ واقعات میں ایک کارگو جہاز اور ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

بحری ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق پہلا واقعہ سعودی عرب کے ساحل کے قریب پیش آیا جہاں لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والے کنٹینر شپ “ایکسپریس روم” کے قریب دو مشکوک پروجیکٹائل سمندر میں گرے۔ جہاز کو براہِ راست نقصان نہیں پہنچا اور عملے کے تمام افراد محفوظ رہے، تاہم اس واقعے نے خطے میں بڑھتے خطرات کو واضح کر دیا۔

صرف ایک گھنٹے کے اندر دوسرا اور زیادہ سنگین واقعہ سامنے آیا جب کویتی آئل ٹینکر “السلمی” کو دبئی کے شمال مغرب میں تقریباً 31 ناٹیکل میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ ٹینکر چین کی بندرگاہ چنگ ڈاؤ کی جانب رواں دواں تھا اور اس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل موجود تھا، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حملے نہ صرف انسانی جانوں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، کیونکہ خلیج اور آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہیں۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ اور عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 140 جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں، وہیں حالیہ کشیدگی کے باعث یہ تعداد کم ہو کر 150 ماہانہ کے قریب رہ گئی ہے، جو غیر معمولی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسے خلیج، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں کام کرنے والے جہازوں کے حوالے سے کم از کم 24 مشکوک واقعات کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری راستوں پر خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو عالمی توانائی مارکیٹ، تجارتی سرگرمیاں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جہاں ہر نیا واقعہ کشیدگی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button