
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوجی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں ایران کے اندر ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگی صورتحال مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی جنرل ڈین کین کے مطابق امریکا نے صرف 30 دنوں میں 11 ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے ہیں، جو اس مہم کی وسعت اور شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے نہ صرف فضائی برتری حاصل کی ہے بلکہ پہلی بار زمینی راستوں سے بھی اسٹریٹجک بمبار طیاروں، خصوصاً B-52، کی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں، جو جنگی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق B-52 جیسے بھاری بمبار طیاروں کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اب زیادہ بڑے اور مضبوط اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں زیرِ زمین تنصیبات اور فوجی مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران “دانشمندی” کا مظاہرہ کرے تو مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔
ہیگستھ کے مطابق امریکی حملوں کے باعث ایرانی فوج کے حوصلے متاثر ہو رہے ہیں، اور بعض علاقوں میں اہلکاروں کی کمی اور فرار جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے مذاکرات سے گریز کیا تو امریکی کارروائیاں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات ایک واضح پیغام ہیں کہ امریکا بیک وقت فوجی دباؤ اور سفارتی راستہ دونوں کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک طرف حملوں کی شدت میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی پیشکش بھی برقرار رکھی گئی ہے۔
موجودہ صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے، خاص طور پر توانائی، معیشت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں۔



