
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائی آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ختم کی جا سکتی ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ “بہت جلد” اس جنگ سے نکل سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر یہ عمل دو سے تین ہفتوں کے اندر مکمل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ زمینی صورتحال اور فوجی اہداف کے حصول پر منحصر ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ کسی باضابطہ معاہدے کی شرط لازمی نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ وہ مستقبل قریب میں ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ایران کو اس حد تک کمزور کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ خطرہ نہ بن سکے، اور اس کے بعد امریکی افواج واپس آ جائیں گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری یہ جنگ اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی عندیہ دیا کہ آنے والے دن اس فوجی آپریشن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے، تاہم انہوں نے جنگ کے اختتام کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی حکمت عملی کو خفیہ رکھنا ضروری ہے اور اصل ہدف صرف مشن کی تکمیل ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ کو جنگ کے “اختتامی مرحلے” کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور مستقبل میں براہ راست مذاکرات کا امکان بھی موجود ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کو ایک جامع 15 نکاتی تجویز دی گئی ہے، لیکن تہران نے تاحال اس کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات بتائے جا رہے ہیں، جہاں سخت گیر حلقے اور نسبتاً معتدل رہنما مختلف حکمت عملیوں پر متفق نہیں ہو پا رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ کے خاتمے کے آثار نظر آ رہے ہیں، لیکن کسی بھی مرحلے پر صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے، خاص طور پر اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جائیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور نیٹو کے تعلقات بھی زیر بحث آ گئے ہیں، کیونکہ بعض اتحادی ممالک نے جنگ کے دوران مکمل تعاون فراہم نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتے نہ صرف اس جنگ کے انجام کا تعین کریں گے بلکہ مشرق وسطیٰ کی مستقبل کی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔



