امریکاتازہ ترین

آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری نہیں، ٹرمپ کا اتحادیوں پر سخت ردعمل

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اپنے اتحادی ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنا امریکہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ ان ممالک کا کام ہے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا بیانات میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے اپنی فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب باقی ذمہ داری دیگر ممالک کو اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “اپنا تیل خود حاصل کرو”، اور یہ کہ امریکہ اب ہر معاملے میں آگے بڑھ کر مدد نہیں کرے گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج آئندہ دو سے تین ہفتوں میں اپنی کارروائی ختم کر سکتی ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کا معاملہ امریکہ کے دائرہ کار سے باہر ہو جائے گا۔ ان کے مطابق فرانس اور دیگر ممالک جو اس راستے سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں خود اس کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اور اس کی بندش نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

جنگ کے بڑھتے اثرات کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی جانب سے خطے میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے واقعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اتحادی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ جنگی کوششوں میں زیادہ فعال کردار ادا کریں، بصورت دیگر انہیں اپنی دفاعی صلاحیتیں خود بہتر بنانا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہمیشہ دوسروں کے لیے بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

یورپی ممالک کی جانب سے اس جنگ میں محدود تعاون نے بھی اختلافات کو ہوا دی ہے۔ اسپین نے اپنی فضائی حدود امریکی طیاروں کے لیے بند کر دی جبکہ اٹلی نے ایک اہم فضائی اڈے کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ فرانس کے ساتھ بھی بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں، خاص طور پر فضائی راستوں کے استعمال کے حوالے سے۔

دوسری جانب جنگی محاذ پر بھی شدت برقرار ہے۔ ایران کے شہر اصفہان میں امریکی حملوں کے بعد بڑے دھماکے اور آگ کے مناظر دیکھے گئے، جبکہ تہران سمیت مختلف شہروں میں ملبہ گرنے اور ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسی طرح ایران کی جانب سے بھی اسرائیل اور خطے کے دیگر اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔

علاقائی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ اس وقت ہو گئی جب عراق میں ایک امریکی صحافی کو اغوا کر لیا گیا، جس کا الزام ایران نواز ملیشیا پر عائد کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں امریکی شہریوں کی سلامتی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اسی دوران امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھاتے ہوئے ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ جنگ کے خاتمے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن میدان میں دباؤ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بڑھتے اختلافات کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی اشارہ دیتے ہیں کہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، جہاں ہر ملک کو اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے لیے خود زیادہ کردار ادا کرنا پڑے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button