اسرائیلتازہ ترین

آپریشن روئرنگ لائن، اسرائیل کے 800 سے زائد حملوں کا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن “روئرنگ لائن” کے دوران اب تک 800 سے زائد فضائی حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 16 ہزار ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ ہزاروں فوجی اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق اس آپریشن میں فضائیہ، ملٹری انٹیلی جنس اور آپریشنز ڈائریکٹوریٹ مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں، اور اس کا مقصد ایران کے فوجی اور دفاعی ڈھانچے کو منظم انداز میں نشانہ بنانا ہے۔ ترجمان کے مطابق کارروائیاں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت جاری ہیں تاکہ ایران کی جنگی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد انٹیلی جنس اداروں نے 5 ہزار سے زائد نئے اہداف کی نشاندہی کی، جن میں مختلف عسکری تنصیبات، میزائل پروگرام سے متعلق مقامات اور دیگر حساس مراکز شامل ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد کو آپریشن کے دوران نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر محاذوں پر بھی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں مجموعی طور پر تقریباً 7 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک وسیع اور کثیر الجہتی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مختلف علاقوں میں دباؤ برقرار رکھنا ہے۔

اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ جنگ سے پہلے جن اہداف کو “انتہائی اہم” اور “بنیادی” قرار دیا گیا تھا، وہ تقریباً مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں یا آئندہ چند دنوں میں ختم کر دیے جائیں گے۔ ان میں بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق تنصیبات اور جوہری پروگرام سے جڑے باقی ماندہ مراکز شامل ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق “اہم اہداف” وہ تھے جو اسرائیل کے لیے فوری خطرہ بن سکتے تھے، جبکہ “بنیادی اہداف” میں ایران کا وسیع فوجی صنعتی نظام شامل تھا، جو طویل مدت میں اس کی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیمانے پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں صرف فوری خطرات ہی نہیں بلکہ مستقبل کی عسکری صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیاں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں اور خطے میں طویل مدتی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری اس تنازع نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں، خصوصاً توانائی کی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ کارروائیاں جنگ کے خاتمے کی طرف لے جاتی ہیں یا صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button