
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مجوزہ صدارتی لائبریری اور میوزیم کے منصوبے کی پہلی جھلک پیش کر دی ہے، جس میں ایک شاندار عمارت، اوول آفس کی نقل اور ایک لگژری ایئر فورس ون طیارہ شامل کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یہ لائبریری امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں تعمیر کی جائے گی، جہاں ایک بلند و بالا عمارت ساحل کے قریب قائم ہوگی۔ منصوبے کے مطابق عمارت پر “TRUMP” کا نمایاں لوگو ہوگا، جیسا کہ صدر کے دیگر کاروباری منصوبوں میں دیکھا جاتا ہے۔
ویڈیو میں ایک ایسے ڈیزائن کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے جو وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ سے مشابہت رکھتا ہے، جبکہ ایک بڑا آڈیٹوریم، وسیع بال روم اور دیگر جدید سہولیات بھی اس کا حصہ ہوں گی۔ خاص طور پر ایک ایسا کمرہ بھی شامل کیا گیا ہے جو اوول آفس کی نقل ہوگا، جس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی اندرونی تبدیلیوں کو بھی نمایاں کیا جائے گا۔

اس منصوبے کی خاص بات ایک بوئنگ 747 طیارہ ہے، جسے ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کیا گیا تھا یا کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق یہ طیارہ قطر کی جانب سے بطور تحفہ فراہم کیا گیا ہے اور ٹرمپ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد اسے لائبریری میں رکھا جائے گا۔ اسے عمارت کے اندر نمایاں مقام پر نصب کرنے کا منصوبہ ہے، جسے ایک منفرد کشش قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے اس منصوبے کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چھ ماہ میں اس پر بھرپور محنت کی ہے۔ ٹرمپ نے بھی اس ڈیزائن کو “خوبصورت” قرار دیتے ہوئے اسے سراہا اور اسے فائیو اسٹار ریٹنگ دی۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ منصوبہ صرف لائبریری تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں ایک لگژری ہوٹل بھی شامل ہو سکتا ہے، جو اسے ایک منفرد سیاحتی مرکز بنا دے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس منصوبے پر عملی کام ان کی موجودہ صدارتی مدت کے دوران شروع ہو، بلکہ اس کا آغاز بعد میں کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدور کی لائبریریاں عموماً ان کے دورِ اقتدار کی دستاویزات، تاریخی ریکارڈ اور یادگاروں کو محفوظ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، لیکن ٹرمپ کا یہ منصوبہ اپنے منفرد ڈیزائن اور تجارتی عناصر کی وجہ سے روایتی لائبریریوں سے مختلف نظر آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ٹرمپ کی سیاسی وراثت کو اجاگر کرے گا بلکہ میامی میں ایک بڑی سیاحتی اور ثقافتی کشش بھی بن سکتا ہے، جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔



