
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بڑے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ہزاروں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں اور ایرانی سرزمین پر سینکڑوں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ یہ آپریشن تاحال پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی کے مطابق “آپریشن روئر آف دی لائن” کے آغاز سے اب تک تقریباً 800 فضائی مشنز مکمل کیے گئے ہیں، جن کے دوران 16 ہزار سے زائد مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کیے گئے۔ ان حملوں میں ایران کے فوجی ڈھانچے، میزائل تنصیبات اور دیگر اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے 2 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں اور کمانڈرز کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 10 ہزار حملے مختلف اہداف پر کیے گئے، جن میں 4 ہزار سے زائد مقامات شامل ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ مختلف محاذوں پر جاری ہیں، جہاں مجموعی طور پر 7 ہزار کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک وسیع اور کثیرالجہتی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مختلف علاقوں میں بیک وقت دباؤ برقرار رکھنا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن اب بھی “مضبوطی کے ساتھ جاری” ہے اور ابھی کسی قسم کی کشیدگی میں کمی یا جنگ بندی کا مرحلہ نہیں آیا۔ ان کے مطابق آئندہ دنوں میں کارروائیوں میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فروری کے آخر سے امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف مشترکہ یا متوازی حملے کر رہے ہیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں اہم فوجی اور سیاسی شخصیات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر فضائی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازع ایک طویل اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف انسانی بحران کو بڑھا سکتی ہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع جنگ کی طرف بھی دھکیل سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس ہوں گے، خاص طور پر توانائی کی منڈیوں، عالمی تجارت اور سفارتی تعلقات پر، جبکہ آنے والے دن اس جنگ کے مستقبل کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔



