امریکاتازہ ترین

50 نایاب وہیلز کو خطرہ، ٹرمپ انتظامیہ نے تیل کی کھدائی کو ترجیح دے دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ میں ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے مفادات کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک متنازعہ فیصلے میں خلیج میکسیکو میں تیل اور گیس کی کھدائی کو اجازت دیتے ہوئے ایک نایاب سمندری مخلوق—رائس وہیل—کے تحفظ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق رائس وہیل دنیا کی انتہائی نایاب ترین انواع میں سے ایک ہے، جس کی تعداد اب صرف تقریباً 50 رہ گئی ہے اور یہ تمام وہیلز خلیج میکسیکو میں ہی پائی جاتی ہیں۔ ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ فیصلے پر عملدرآمد ہوا تو اس نسل کے مکمل خاتمے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ فیصلہ ایک طاقتور امریکی حکومتی کمیٹی نے کیا، جسے غیر رسمی طور پر “گاڈ اسکواڈ” کہا جاتا ہے۔ یہ کمیٹی ایسے معاملات میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے جہاں ترقیاتی منصوبے اور نایاب جانداروں کے تحفظ کے قوانین آپس میں ٹکرا جائیں۔ ماہرین کے مطابق اس کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی منصوبے کو اجازت دے، چاہے اس کے نتیجے میں کسی نسل کے ختم ہونے کا خدشہ ہی کیوں نہ ہو۔

رپورٹس کے مطابق اس بار کمیٹی نے قومی سلامتی کو بنیاد بنا کر خلیج میکسیکو میں تیل اور گیس کی سرگرمیوں کو ماحولیاتی قوانین سے استثنا دے دیا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مؤقف اختیار کیا کہ ماحولیاتی گروپس کی جانب سے دائر مقدمات توانائی کے منصوبوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جو ملک کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی کھدائی، جہازوں کی آمد و رفت اور زیرِ سمندر دھماکوں جیسی سرگرمیاں وہیلز کے لیے شدید خطرہ ہیں، کیونکہ یہ ان کی رہنمائی، خوراک تلاش کرنے اور رابطے کے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کے اخراج جیسے حادثات بھی ان کی بقا کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماحولیاتی حلقوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو رائس وہیل ہمیشہ کے لیے معدوم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھیں گے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے ماضی میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سمندری ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے وہیلز کے لیے نقصان دہ ہیں، تاہم امریکی سائنسدانوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔

ماہرین کے مطابق خلیج میکسیکو میں دیگر خطرے سے دوچار سمندری حیات بھی موجود ہے، جن میں کچھوے، مینٹی اور دیگر پرندے شامل ہیں، جو اس فیصلے کے اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ کیا معاشی اور توانائی کے مفادات کے لیے ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر قانونی اور سیاسی سطح پر مزید بحث متوقع ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button