ایرانتازہ ترین

ایران کا یورینیم قبضے میں لینے کا منصوبہ، امریکہ کے لیے بڑا خطرہv

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضہ کرنے کے ممکنہ منصوبے نے دفاعی ماہرین میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں اسے جدید تاریخ کے پیچیدہ ترین اور خطرناک فوجی آپریشنز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس آپشن پر غور کر رہے ہیں کہ ایران کے زیرِ زمین جوہری مراکز میں داخل ہو کر وہاں موجود افزودہ یورینیم کو قبضے میں لیا جائے، تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتہائی مشکل، طویل اور خطرات سے بھرپور ہو سکتا ہے۔

سابق امریکی دفاعی حکام کے مطابق اس طرح کے آپریشن کے لیے زمینی افواج کی تعیناتی ضروری ہوگی، اور یہ کارروائی کئی دنوں یا حتیٰ کہ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا مشن ہوگا جس میں معمولی غلطی بھی بڑے جانی اور سفارتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں مختلف سطحوں پر افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں تقریباً 440 کلوگرام یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے، جو نسبتاً کم وقت میں ہتھیار بنانے کے قابل سطح تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں کلوگرام کم درجے کا یورینیم بھی موجود ہے، جو مستقبل میں استعمال ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مواد کا بڑا حصہ ایران کے شہر اصفہان میں واقع زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں محفوظ ہے، جبکہ کچھ مقدار نطنز اور فردو جیسے دیگر مراکز میں بھی ہو سکتی ہے۔ ان تنصیبات کو زمین کے گہرے حصوں میں بنایا گیا ہے، جس سے ان تک رسائی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے آپریشن کی سب سے بڑی مشکل درست معلومات کا فقدان ہے، کیونکہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو گزشتہ حملوں کے بعد ان تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ ایران نے ممکنہ حملوں کے پیش نظر اپنی تنصیبات کو مزید محفوظ اور بند کر دیا ہے، جس سے کسی بھی کارروائی کی پیچیدگی بڑھ گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے علاوہ دیگر آپشنز بھی زیر غور ہیں، جن میں خلیج میں واقع خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے، تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ممکنہ طور پر ایسے آپشنز کو صرف عملی اقدامات کے لیے نہیں بلکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ واقعی اس طرح کا آپریشن کرتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں جنگ کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے بڑے اثرات مرتب ہوں گے، جن میں سفارتی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سلامتی کے خدشات شامل ہیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ واضح نہیں کہ امریکہ اس منصوبے پر عمل کرے گا یا نہیں، تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کا کوئی بھی اقدام غیر معمولی خطرات سے بھرپور ہوگا اور اس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button