تازہ ترینترکی

ترکی کے ساحل کے قریب کشتی الٹ گئی، کئی تارکین وطن جاں بحق

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ترکی کے ساحلی علاقے کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی الٹنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جبکہ متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ترک حکام کے مطابق یہ واقعہ بحیرہ ایجیئن میں پیش آیا، جہاں تیز رفتار ربڑ بوٹ میں سوار افراد یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق کشتی نے ساحلی محافظوں کی ہدایات نظر انداز کرتے ہوئے تیز رفتاری سے سفر جاری رکھا، تاہم خراب سمندری حالات کے باعث اس میں پانی بھر گیا اور یہ الٹ گئی۔

ریسکیو حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سمندر میں سرچ آپریشن شروع کیا، جس میں کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے کم از کم 20 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا، جبکہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بھی نکالی گئیں۔

حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سمندر میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ ابھی تک کشتی میں سوار افراد کی قومیتوں کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ماہرین کے مطابق ترکی سے یونان جانے والا سمندری راستہ طویل عرصے سے تارکین وطن کے لیے ایک خطرناک مگر استعمال ہونے والا روٹ رہا ہے، جہاں لوگ جنگ، غربت اور عدم استحکام سے بچنے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اب بھی سرگرم ہیں، جو لوگوں کو غیر محفوظ کشتیوں میں خطرناک سفر پر مجبور کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یورپی ممالک نے سرحدی کنٹرول سخت کیے ہیں، لیکن بہتر مستقبل کی تلاش میں لوگوں کی بڑی تعداد اب بھی یہ خطرناک راستے اختیار کر رہی ہے، جس کے باعث ایسے المناک واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر عالمی برادری کے لیے ایک بڑا سوال کھڑا کرتا ہے کہ مہاجرین کے بحران کا پائیدار حل کیسے نکالا جائے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button