
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران دبئی بندرگاہ کے قریب ایک کویتی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں اس واقعے نے عالمی توانائی سیکیورٹی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
کویتی سرکاری میڈیا کے مطابق “السلمی” نامی ایک بڑے خام تیل بردار جہاز کو دبئی کی اینکریج حدود میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ ڈرون یا میزائل کے ذریعے کیا گیا، تاہم اس کی مکمل نوعیت کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور سمندر میں تیل کے اخراج کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دبئی کی بندرگاہی اتھارٹیز نے فوری طور پر فائر فائٹنگ ٹیموں کو متحرک کیا، جو آگ بجھانے اور صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں۔
کویت کی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس دوران ملک کے فضائی دفاعی نظام کو “مخالفانہ میزائل اور ڈرون حملوں” کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے باعث پورے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے مقاصد کے “نصف سے زیادہ” حاصل کر چکی ہے، تاہم انہوں نے اس کے خاتمے کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دینے سے گریز کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مستقبل میں خلیجی تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت توانائی کے پائپ لائن نیٹ ورک کو سعودی عرب کے راستے بحیرہ احمر اور پھر بحیرہ روم تک منتقل کرنے کی تجاویز زیر بحث ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل بردار جہازوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے عالمی اثرات فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور عالمی معیشت پر دباؤ کی صورت میں۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جنگ کا دائرہ صرف زمینی یا فوجی اہداف تک محدود نہیں رہا بلکہ اب توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی تجارتی راستے بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔



