تازہ ترینمشرق وسطی

یو اے ای نے بعض ایرانی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگا دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں متحدہ عرب امارات نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بعض ایرانی شہریوں کے ملک میں داخلے اور ٹرانزٹ پر پابندی عائد کر دی ہے، جسے خطے میں بڑھتی کشیدگی کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امارات کی بڑی ایئرلائنز، بشمول ایمریٹس اور اتحاد ایئرویز، کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق مخصوص ایرانی شہری اب یو اے ای میں داخل نہیں ہو سکیں گے یا وہاں سے گزر نہیں پائیں گے۔ تاہم اس پابندی میں بعض اہم طبقات کو استثنیٰ دیا گیا ہے، جن میں گولڈن ویزا ہولڈرز، ڈاکٹرز، انجینئرز، سرمایہ کار، اعلیٰ پیشہ ور افراد، کاروباری شخصیات اور اماراتی شہریوں کے اہل خانہ شامل ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور ایران و اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یو اے ای، جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس جنگ کے اثرات براہ راست محسوس کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تقریباً پانچ لاکھ ایرانی شہری مقیم ہیں، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی پابندیاں سفارتی تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں تناؤ پہلے ہی عروج پر ہے۔

یو اے ای کی وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ملک کے فضائی دفاعی نظام نے سینکڑوں بیلسٹک اور کروز میزائلز کے ساتھ ہزاروں ڈرون حملوں کو ناکام بنایا ہے۔ تاہم بعض حملوں میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا، جن میں ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا یہ فیصلہ بنیادی طور پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم اور عدم اعتماد کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو ایسے مزید اقدامات سامنے آ سکتے ہیں، جو نہ صرف عوامی نقل و حرکت بلکہ تجارت اور سفارتی تعلقات کو بھی متاثر کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک اپنی داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس بحران کے ممکنہ حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button