
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل کی جانب سے منظور کیے گئے ایک نئے قانون نے مقبوضہ مغربی کنارے میں زیر حراست فلسطینیوں اور ان کے اہل خانہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قیدیوں کو مناسب قانونی عمل کے بغیر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس قانون کے تحت ایسے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا کے طور پر شامل کیا گیا ہے جن پر مہلک حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کی تعریف اور اطلاق اس انداز میں کیا گیا ہے کہ اس کا استعمال زیادہ تر فلسطینیوں کے خلاف ہی ہو سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی عدالتوں میں فلسطینیوں کو مکمل قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق ان عدالتوں میں سزا کی شرح غیر معمولی حد تک زیادہ ہے، جس سے منصفانہ ٹرائل پر سوالات اٹھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے بھی اس قانون کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اسرائیلی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ممکنہ طور پر ملک کی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور امکان ہے کہ عدالت اسے کالعدم قرار دے دے، کیونکہ اس میں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے عناصر موجود ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی علاقوں میں اس قانون کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں عوام اور سماجی حلقے اسے امتیازی اور غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔ قیدیوں کے اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون کے تحت سزاؤں کا اطلاق تیزی سے کیا جا سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے، اور اس طرح کے قوانین صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس قانون کے فوری نفاذ کا امکان کم ہے، لیکن اس کے سیاسی اور سماجی اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے اس پر ردعمل بھی آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتا ہے۔



