ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں چینی ایئرلائنز کو دھچکا، سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھ گئی

بیجنگ/لندن: ایران جنگ کے باعث عالمی فضائی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے، اور جہاں کچھ ماہرین توقع کر رہے تھے کہ چینی ایئرلائنز اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گی، وہیں اب یہ کمپنیاں غیر متوقع طور پر مشکلات میں گھرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق چین کی سرکاری ایئرلائنز کو یورپ کے لیے پروازوں میں اضافہ کر کے فائدہ ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر اس لیے کہ کئی مغربی ایئرلائنز مشرق وسطیٰ کے فضائی راستوں سے گریز کر رہی ہیں۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس سامنے آ رہی ہے، جہاں سرمایہ کار ان کمپنیوں کے شیئرز فروخت کر رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتیں ان کے منافع کو بری طرح متاثر کریں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جو ایئرلائنز کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہوتا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ لاگت کل آپریشنل اخراجات کا 30 سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے، جس میں اضافے سے منافع تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

عالمی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ خلیج کے اہم راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، میں کشیدگی نے تیل اور ایندھن کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف قیمتیں بڑھی ہیں بلکہ کئی ممالک اور ایئرلائنز کو ایندھن کی دستیابی کے حوالے سے بھی خدشات لاحق ہیں۔

چینی ایئرلائنز جیسے چائنا ایسٹرن، ایئر چائنا اور چائنا سدرن پہلے ہی مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق یہ کمپنیاں گزشتہ سال کے آخر میں دوبارہ خسارے میں چلی گئیں، اور اب بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتیں ان کے لیے مزید چیلنج بن رہی ہیں۔

دوسری جانب عالمی فضائی صنعت میں بھی ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کئی ایئرلائنز نے کرایوں میں اضافہ شروع کر دیا ہے جبکہ کچھ پروازیں منسوخ بھی کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں سفر مزید مہنگا اور محدود ہو سکتا ہے۔

اگرچہ چین کی ایئرلائنز کو کچھ حد تک فائدہ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ متبادل فضائی راستے استعمال کر رہی ہیں، لیکن بڑھتے ہوئے اخراجات، کمزور مانگ اور عالمی غیر یقینی صورتحال نے ان ممکنہ فوائد کو محدود کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران جنگ طویل ہوتی ہے تو نہ صرف چینی ایئرلائنز بلکہ پوری عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو ایک بڑے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات مسافروں سے لے کر عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button