امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کا ایران جنگ پر خطاب، کئی اہم سوالات بدستور حل طلب

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے حوالے سے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے “بنیادی عسکری اہداف” کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کے بیان کے باوجود جنگ کے مستقبل سے متعلق کئی اہم سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے نشر ہونے والے 20 منٹ کے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ تقریباً ایک ماہ سے جاری اس جنگ کا اختتام اب چند ہفتوں میں ممکن ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف سخت مؤقف دہراتے ہوئے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر ایران کو “انتہائی سخت” حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگرچہ صدر نے امریکی عوام کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ جنگ مستقبل میں سلامتی کے لیے ایک “سرمایہ کاری” ہے، لیکن حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں امریکی شہری اس فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کر رہے۔

خطاب میں سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ صدر ٹرمپ نے کئی اہم معاملات پر وضاحت نہیں دی، جس سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں اور جوابی ڈرون و میزائل کارروائیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے ممکنہ دورانیے پر کوئی واضح ہم آہنگی سامنے نہیں آئی۔

اسی طرح چند روز قبل پیش کیے گئے مبینہ امن منصوبے کا بھی خطاب میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا امریکہ نے سفارتی راستہ پس پشت ڈال دیا ہے یا نہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے پر دباؤ کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے، تاہم صدر ٹرمپ اس معاملے پر بھی کوئی واضح حکمت عملی پیش نہ کر سکے۔ کبھی وہ اتحادیوں سے خود کارروائی کرنے کا کہتے ہیں، تو کبھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ مسئلہ خود حل ہو جائے گا۔

ادھر خطے میں امریکی فوجیوں کی بڑھتی موجودگی بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ہزاروں امریکی میرینز اور پیرا ٹروپرز کی تعیناتی کے باوجود یہ واضح نہیں کہ ان کا عملی کردار کیا ہوگا اور آیا زمینی کارروائی کا امکان موجود ہے یا نہیں۔

دوسری جانب جنگ کے معاشی اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو آئندہ انتخابات کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کے حالیہ خطاب نے وقتی طور پر یقین دہانی تو فراہم کی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ واضح کرنے میں ناکام رہا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں کامیابی کو کس طرح دیکھتا ہے اور اس کا حتمی راستہ کیا ہوگا۔ ایسے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صورتحال کسی بھی وقت مزید پیچیدہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button