امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کی فوجی کارروائیوں سے عالمی تجارت متاثر، امریکی برآمدات میں تیزی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن/ٹوکیو: ایران جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد امریکہ کی نیفتھا برآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے عالمی توانائی تجارت کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں امریکہ نے تقریباً 15 ملین بیرل نیفتھا برآمد کی، جو کسی ایک ماہ میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق جاپان سمیت ایشیائی ممالک نے مشرق وسطیٰ سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد متبادل کے طور پر امریکہ کا رخ کیا، خاص طور پر ٹیکساس اور لوزیانا جیسے علاقوں سے بڑی مقدار میں خریداری کی گئی۔

ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹ نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف قیمتوں میں اضافہ کیا بلکہ خریدار ممالک کو فوری متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیفتھا، جو پیٹروکیمیکل صنعت میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے، کی قلت نے ایشیا میں پلاسٹک اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں کو بھی بڑھا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد کئی فیکٹریوں کو پیداوار کم کرنے یا مہنگے متبادل ذرائع اپنانے پڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اس صورتحال سے معاشی فائدہ اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں برآمدات میں اضافہ نہ صرف توانائی شعبے کو تقویت دے رہا ہے بلکہ عالمی منڈی میں اس کا اثر و رسوخ بھی بڑھ رہا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو ایندھن کی بڑھتی قیمتیں عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران جنگ نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے، جسے بعض تجزیہ کار دہائیوں کا سب سے بڑا سپلائی بحران قرار دے رہے ہیں۔ اس کے اثرات یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں توانائی کی قلت اور مہنگائی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی توانائی کی سپلائی چین کس قدر حساس ہے، اور کسی ایک خطے میں کشیدگی پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایسے میں امریکہ جیسے متبادل سپلائرز کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں توانائی کے نئے تجارتی راستوں اور شراکت داریوں کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button