
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
لندن: برطانیہ کو بیلسٹک میزائل حملوں کے مقابلے میں محدود دفاعی صلاحیت حاصل ہے، جس پر ایک سابق رائل ایئر فورس (RAF) عہدیدار نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک کو جدید خطرات کا سامنا کرنے کے لیے مزید تیاری کی ضرورت ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی فضائی دفاعی نظام خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے خلاف مکمل تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جس سے ملکی سلامتی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور ایران کے میزائل پروگرام نے اس خطرے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے مختلف خطوں میں میزائل اور ڈرون حملوں نے مغربی ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ نے گزشتہ برسوں میں اپنے زمینی فضائی دفاعی نظام میں کمی کی ہے، جس کے باعث اب جدید میزائل حملوں کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل دینا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ بعض پرانے دفاعی نظام ختم کیے جا چکے ہیں جبکہ نئے نظام ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اتحادیوں پر انحصار کافی نہیں، بلکہ اندرونی دفاعی نظام کو بھی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بیلسٹک میزائل دفاع ایک نہایت پیچیدہ اور مہنگا نظام ہوتا ہے، جس کے لیے جدید ریڈار، انٹرسیپٹر میزائل اور مربوط کمانڈ سسٹمز درکار ہوتے ہیں۔ اگر برطانیہ اس شعبے میں سرمایہ کاری نہیں بڑھاتا تو مستقبل میں اسے مزید خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں، اور کئی ممالک اپنی دفاعی حکمت عملی کو ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی دفاعی کمزوریوں کو دور کرے اور بدلتی عالمی صورتحال کے مطابق خود کو تیار کرے۔



