
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: ایران جنگ کے دوران ایک سستا مگر انتہائی مؤثر امریکی ڈرون غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے بجائے ایرانی ڈرون ڈیزائن کو ریورس انجینئر کر کے تیار کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے تیار کردہ یہ ڈرون، جسے FLM-136 یا “لوکاس” کہا جاتا ہے، جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے میں استعمال ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ڈرون کسی بڑی ٹیک کمپنی یا اسٹارٹ اپ کی پیداوار نہیں بلکہ فوجی انجینئرز کی سادہ مگر مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ڈرون کو عام زبان میں “ڈرونز کی ٹویوٹا کرولا” کہا جا رہا ہے، یعنی ایسا ہتھیار جو سستا، قابل اعتماد اور آسانی سے بڑی تعداد میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس مہنگے اور جدید ڈرون سسٹمز کئی مواقع پر کم مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے “شاہد” طرز کے ڈرونز نے گزشتہ برسوں میں جنگی حکمت عملی کو تبدیل کر دیا تھا، جہاں کم لاگت کے باوجود یہ ہتھیار بڑے نقصانات کا سبب بنے۔ اب امریکہ نے اسی ماڈل کو اپناتے ہوئے اسے اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس نئی حکمت عملی کے تحت ایسے ڈرونز تیار کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف کم قیمت ہیں بلکہ تیزی سے تیار اور میدان میں تعینات بھی کیے جا سکتے ہیں، جس سے روایتی مہنگے ہتھیاروں پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں مہنگے اور پیچیدہ ہتھیاروں کے بجائے سادہ، سستے اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے ڈرونز زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس رجحان نے عالمی دفاعی صنعت کو بھی نئی سمت دے دی ہے، جہاں اب کم لاگت ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں صرف ٹیکنالوجی کی برتری ہی نہیں بلکہ حکمت عملی اور لاگت کا توازن بھی فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے، اور مستقبل میں “کم قیمت، زیادہ اثر” والا ماڈل مزید عام ہونے کا امکان ہے۔



