تازہ ترینرشیا یوکرین

روس کا بڑا فیصلہ، جولائی تک پیٹرول برآمدات پر پابندی،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ماسکو: روسی حکومت نے پیٹرول کی برآمدات پر جولائی کے اختتام تک پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ملک کے اندر ایندھن کی فراہمی کو مستحکم رکھنا اور بڑھتی طلب کو پورا کرنا ہے۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ زرعی سیزن کے آغاز کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی طلب اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ممکنہ قلت سے بچنے میں مدد ملے گی۔

تاہم یہ پابندی مکمل نہیں ہوگی، کیونکہ روس نے ان ممالک کے لیے استثنیٰ رکھا ہے جن کے ساتھ ایندھن کی فراہمی کے سرکاری معاہدے موجود ہیں، جیسے منگولیا۔

ماہرین کے مطابق روس ماضی میں بھی ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے اسی نوعیت کے اقدامات کر چکا ہے، خاص طور پر ایسے اوقات میں جب اندرونی طلب میں اچانک اضافہ ہوتا ہے یا بیرونی عوامل دباؤ ڈالتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال روس کے مختلف علاقوں اور یوکرین کے ان حصوں میں، جو روس کے کنٹرول میں ہیں، ایندھن کی قلت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز پر حملے اور بڑھتی موسمی طلب تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق روس نے گزشتہ سال تقریباً 50 لاکھ میٹرک ٹن پیٹرول برآمد کیا تھا، جو یومیہ تقریباً 1 لاکھ 17 ہزار بیرل بنتا ہے۔ اس پابندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہونے کا امکان ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور عالمی توانائی بحران کے تناظر میں روس کا یہ اقدام عالمی منڈیوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر دیگر توانائی برآمد کرنے والے ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات کرتے ہیں تو عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور توانائی بحران کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button