امریکاتازہ ترین

امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی سخت وارننگ، “تباہ کن حملوں” کی دھمکی،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت جواب دینے کی دھمکی دیتے ہوئے آئندہ دنوں میں “شدید اور تباہ کن حملوں” کا عندیہ دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت کارروائی کے اشارے دیے گئے تھے۔

ایرانی فوج کے مرکزی آپریشنل ہیڈکوارٹر "خاتم الانبیاء” کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی عسکری صلاحیتوں کا مکمل اندازہ نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے پاس ایسی دفاعی اور اسٹریٹجک صلاحیتیں موجود ہیں جن کے بارے میں مخالفین کو علم ہی نہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ذوالفقاری نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایران کے میزائل، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی عسکری پیداوار خفیہ مقامات پر جاری ہے، جہاں تک دشمن کی رسائی ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مخالفین کو مکمل شکست اور پسپائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں انہوں نے کہا کہ دشمن کو ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو نہ صرف غیر متوقع بلکہ انتہائی تباہ کن ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمن نے زمینی کارروائی کی کوشش کی تو “کوئی بھی زندہ واپس نہیں جائے گا”۔ انہوں نے کمانڈرز کو ہدایت دی کہ دشمن کی ہر نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جائے اور فوری ردعمل کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جائے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق دونوں اطراف سے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کی سپلائی، عالمی مارکیٹس اور سیکیورٹی صورتحال پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی غلط اندازے یا محدود جھڑپ کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث عالمی برادری کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button