ایرانتازہ ترین

ایران کا دو ٹوک اعلان، جنگ جاری رہے گی، ٹرمپ کے دعوے مسترد

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اہداف کے قریب تکمیل کے دعوے کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اس “جنگ، مذاکرات اور پھر جنگ” کے چکر کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں دہشت گردانہ نوعیت کے اقدامات بھی شامل ہیں، جہاں ایرانی قیادت اور فوجی کمانڈرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، چاہے وہ فعال ڈیوٹی پر نہ بھی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک “ناانصاف جنگ” ہے جو ایران پر مسلط کی گئی ہے، اور اسی وجہ سے ایران کے پاس سخت جواب دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر "خاتم الانبیاء” کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی حملوں کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ جن مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ ایران کی اصل عسکری صلاحیت کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی اسٹریٹجک فوجی پیداوار ایسے خفیہ مقامات پر جاری ہے جن تک دشمن کی رسائی ممکن نہیں۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں بڑے پیمانے پر حملوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ایران کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیتیں بدستور مضبوط ہیں اور وہ طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازع فوری طور پر ختم ہونے کے بجائے مزید طول پکڑ سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button