امریکاتازہ ترین

امریکی انٹیلی جنس: شدید حملوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران اب بھی نمایاں حد تک میزائل لانچنگ صلاحیت اور ڈرون طاقت برقرار رکھے ہوئے ہے، جو خطے کے لیے بدستور خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔

CNN کی ایک رپورٹ کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی فعال یا قابلِ استعمال حالت میں موجود ہیں، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں یک طرفہ حملہ آور ڈرونز (کامی کازی ڈرونز) بھی اس کے اسلحہ ذخیرے میں شامل ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کے مطابق، اگرچہ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایران کے فوجی اہداف پر شدید بمباری کی گئی، تاہم اس کے باوجود ایران کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی۔ بعض لانچرز زیر زمین ہونے یا جزوی طور پر متاثر ہونے کے باعث اب بھی قابلِ استعمال ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ساحلی دفاعی کروز میزائلوں کا ایک بڑا حصہ بھی محفوظ ہے، جو آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ صلاحیت ایران کو خطے میں اسٹریٹیجک برتری فراہم کرتی ہے، خاص طور پر عالمی تیل سپلائی کے اہم راستوں پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump اور ان کی انتظامیہ نے عوامی بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کے بیشتر فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم انٹیلی جنس رپورٹ اس دعوے کے مقابلے میں ایک زیادہ محتاط اور پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے کیے جانے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جو تقریباً 90 فیصد تک کم ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کی وجہ ایران کی کمزوری کے بجائے اس کی حکمت عملی میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے انٹیلی جنس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بعض نامعلوم ذرائع امریکی فوج کی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور اس کی کئی اہم تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ عسکری توازن کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک طرف ایران کو نقصان پہنچا ہے، لیکن دوسری جانب اس کی بنیادی جنگی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار رہ سکتی ہے اور کسی بھی وقت مزید تصادم کا خطرہ موجود ہے۔

یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں صرف فضائی حملے کافی نہیں ہوتے، بلکہ زیر زمین تنصیبات، متبادل نظام اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کسی بھی ملک کو طویل عرصے تک میدان میں برقرار رکھ سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button