امریکاتازہ ترین

ایک کے بعد ایک برطرفی، ٹرمپ کا سخت کریک ڈاؤن شروع، امریکی فوج میں بھی اعلیٰ افسران فارغ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ میں صدر Donald Trump کی انتظامیہ میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے آثار سامنے آ رہے ہیں، جہاں کابینہ کے مزید اراکین کو ہٹانے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ فوج کے اعلیٰ افسران کی برطرفیاں بھی جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کی برطرفی کے بعد صدر ٹرمپ اپنی ٹیم کی کارکردگی سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کے باعث دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کچھ ایسے وزراء کو ہٹانے پر غور کر رہے ہیں جن کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی یا جن پر زیادہ تنقید ہو رہی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کامرس سیکریٹری اور لیبر سیکریٹری سمیت چند اہم عہدیداروں کی پوزیشن غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ بعض ذرائع نے انہیں "خطرے میں” قرار دیا ہے۔ تاہم دیگر حکومتی حلقوں نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی وزراء اب بھی صدر کا مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

اسی دوران امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ Pete Hegseth نے فوج کے اندر بھی بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے اعلیٰ ترین افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ اس سلسلے میں جنرل رینڈی جارج سمیت مزید دو سینئر افسران کو بھی فارغ کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں تربیتی کمانڈ اور مذہبی امور کے سربراہ شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات فوجی ڈھانچے میں اصلاحات اور نئی حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں، تاہم ناقدین اسے ایک وسیع "شیک اپ” قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد پالیسیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب کچھ اطلاعات میں ایف بی آئی اور دیگر اہم اداروں کے سربراہان کی تبدیلی کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اپنی ٹیم پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور تمام اہم عہدیدار بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تبدیلیاں جاری رہتی ہیں تو اس سے نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کو خارجہ محاذ پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئندہ برس کانگریس کی سیاسی صورتحال بھی بدل سکتی ہے، جس کے بعد صدر کے لیے نئے عہدیداروں کی تقرری مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ تیزی سے فیصلے کر رہی ہے تاکہ اپنی پوزیشن مضبوط بنائی جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button