
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
جاپان کی جانب سے امریکہ سے خریدے جانے والے ٹوماہاک کروز میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی اسلحہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جاپان نے سیکڑوں Tomahawk missile خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے باعث ان میزائلوں کا استعمال بڑھ گیا ہے، جس سے سپلائی متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Japan اپنی دفاعی صلاحیت کو تیزی سے مضبوط بنا رہا ہے، خاص طور پر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور چین کے ساتھ ممکنہ خطرات کے پیش نظر۔ ٹوماہاک میزائل جاپان کے لیے طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جو اس کی دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دوسری جانب United States اس وقت ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں میں مصروف ہے، جہاں میزائل اور دیگر جدید ہتھیاروں کا بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ نے نہ صرف امریکی فوجی وسائل کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اتحادی ممالک کو فراہم کیے جانے والے دفاعی سازوسامان پر بھی اثر ڈالا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بڑے تنازع نے عالمی اسلحہ سپلائی چین کو متاثر کیا ہو۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کس طرح اتحادی ممالک کے دفاعی منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
اگر یہ تاخیر طویل ہوتی ہے تو جاپان کو اپنی دفاعی منصوبہ بندی میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے یا متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ پیش رفت امریکہ کے لیے بھی ایک چیلنج ہو سکتی ہے، کیونکہ اسے بیک وقت جنگی ضروریات اور اتحادیوں کے دفاعی وعدوں کو پورا کرنا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا امریکہ جاپان کے ساتھ اپنے معاہدے کے مطابق بروقت فراہمی یقینی بنا پاتا ہے یا نہیں، تاہم موجودہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے اثرات عالمی سطح پر دفاعی توازن کو متاثر کر رہے ہیں۔



