
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے زیرِ کنٹرول خلیجی جزائر نے آبنائے ہرمز پر اس کی اسٹریٹیجک گرفت کو مزید مضبوط بنا دیا ہے، جس کے باعث عالمی تیل ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے اور معاشی بحران کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق Strait of Hormuz کے قریب واقع چھوٹے مگر اہم جزائر، جیسے Kharg Island، Qeshm Island اور Abu Musa Island، ایران کو نہ صرف اپنے تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ اہم عالمی بحری راستوں پر نظر رکھنے اور دباؤ ڈالنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتے ہیں۔
یہ جزائر ایران کے لیے فوجی اور معاشی دونوں حوالوں سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہاں موجود تنصیبات کے ذریعے ایران باآسانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس راستے کو محدود یا بند بھی کر سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت محدود کیے جانے کے بعد صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد یہ ٹریفک نمایاں طور پر کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا ہو تو ممکن ہے کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو ان جزائر پر کنٹرول حاصل کرنا پڑے، جو ایک بڑے عسکری تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
Iran کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ چھوٹے جغرافیائی مقامات بھی عالمی سیاست اور معیشت میں کس قدر بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے توانائی کی سپلائی کا ایک اہم دروازہ سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال عالمی منڈیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک متاثر رہتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



