ایرانتازہ ترین

ایران جنگ کے دوران امریکی فوج میں بڑی تبدیلی، آرمی چیف سمیت متعدد جنرلز برطرف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں وزیر دفاع Pete Hegseth نے امریکی فوج کے اعلیٰ ترین وردی پوش افسر جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق جنرل رینڈی جارج فوری طور پر آرمی چیف آف اسٹاف کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں، تاہم ان کی برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے اور جنگ کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ اقدام وزیر دفاع ہیگستھ کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران اعلیٰ فوجی قیادت میں کی جانے والی متعدد تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی کئی سینئر جنرلز اور ایڈمرلز کو عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے، جس سے فوجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی سلسلے میں مزید دو اعلیٰ افسران، جنرل ڈیوڈ ہوڈن اور میجر جنرل ولیم گرین کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم ان فیصلوں کی وجوہات بھی سامنے نہیں لائی گئیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی اچانک تبدیلیاں جاری جنگ کے دوران غیر معمولی سمجھی جاتی ہیں۔

جنرل کرسٹوفر لا نیو کو عبوری طور پر نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے، جنہیں وزیر دفاع کے قریبی افسران میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی تیز رفتار ترقی نے بھی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ وہ چند سال پہلے تک نسبتاً نچلے عہدے پر فائز تھے۔

دوسری جانب صدر Donald Trump نے اپنے حالیہ خطاب میں ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ ابھی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ انہوں نے آئندہ ہفتوں میں مزید حملوں کی پیشگوئی بھی کی ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کی۔

ادھر ایران نے امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی زبان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فوجی قیادت میں اس وقت ہونے والی تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن اپنی جنگی حکمت عملی میں ردوبدل کر رہا ہے۔ تاہم اس کے اثرات نہ صرف میدان جنگ بلکہ عالمی سیاسی منظرنامے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جاری جنگ، فوجی تبدیلیاں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی مل کر ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہی ہیں، جس کے نتائج آنے والے ہفتوں میں مزید واضح ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button