
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ نے اپنی داخلی سیکیورٹی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں کو ڈیوٹی کے اوقات کے علاوہ بھی فوجی اڈوں کے اندر ذاتی ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دی ہے، جسے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایک بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth کی جانب سے اعلان کردہ اس نئی پالیسی کے تحت اسلحہ رکھنے کے لیے پہلے موجود سخت پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے، اور اب "پریزمڈ کنسینٹ” کے اصول کے تحت اجازت دینا آسان بنا دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی سیکیورٹی ادارے "لون وولف” یعنی اکیلے حملہ آوروں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو بغیر کسی واضح تنظیمی تعلق کے اچانک حملہ کرتے ہیں، جس کی پیشگی نشاندہی کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب خدشہ صرف انفرادی حملہ آوروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک نیا رجحان بھی سامنے آ رہا ہے، جسے "ڈائریکٹڈ وولف” کہا جا رہا ہے۔ اس میں حملہ آور بظاہر اکیلا ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کسی بیرونی قوت یا نظریاتی اثر کا عمل دخل ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں۔

حالیہ برسوں میں امریکی فوجی اڈوں کے اندر پیش آنے والے واقعات نے بھی اس پالیسی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2025 میں جارجیا کے ایک فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں ایک اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں کو نشانہ بنایا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے اڈوں کے اندر سیکیورٹی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نئی پالیسی فوجیوں کو فوری ردعمل کی صلاحیت فراہم کرے گی، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ہتھیاروں کی دستیابی بعض صورتوں میں خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر یہ فیصلہ ناگزیر تھا، جبکہ ماہرین کے مطابق اس پالیسی کے اثرات آنے والے وقت میں واضح ہوں گے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں اندرونی اور بیرونی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔



