
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل نے تقریباً ایک ماہ کی بندش کے بعد اپنے سب سے بڑے گیس فیلڈ کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے، جسے جاری جنگی صورتحال کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف مقامی توانائی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ عالمی منڈی میں بھی کسی حد تک استحکام آ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ گیس فیلڈ، جو بحیرہ روم میں واقع ہے، اسرائیل کے توانائی نظام کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسے بند کیا گیا تھا، جس سے توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پیداوار کی بحالی کے بعد گیس کی سپلائی دوبارہ شروع ہو جائے گی، جس سے نہ صرف اسرائیل بلکہ برآمدی منڈیوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، جو حالیہ کشیدگی کے باعث متاثر ہوئی تھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے توانائی کے شعبے کو براہ راست متاثر کیا ہے، خصوصاً ایسے اہم منصوبے جو خطے کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں اس گیس فیلڈ کی بحالی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو توانائی کی سپلائی مزید مستحکم ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں کسی بھی وقت صورتحال تبدیل ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ کے باوجود توانائی کے شعبے کو فعال رکھنا ممالک کے لیے ایک بڑی ترجیح بن چکا ہے، کیونکہ اس کا اثر نہ صرف مقامی بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑتا ہے۔



