
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری علاقائی سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔پاکستان سمیت کئی علاقائی ممالک کی قیادت میں جاری ثالثی مذاکرات اب “ڈیڈ اینڈ” تک پہنچ چکے ہیں، کیونکہ ایران نے امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات سے انکار کر دیا اور واشنگٹن کے مطالبات کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی تھیں، تاہم ایران نے نہ صرف ان تجاویز کو مسترد کیا بلکہ اپنی شرائط بھی سامنے رکھیں، جن میں جنگی نقصانات کا ازالہ اور اسٹریٹجک کنٹرول جیسے نکات شامل ہیں۔
دوسری جانب ترکی، مصر اور دیگر ممالک اب بھی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور متبادل مقامات جیسے دوحہ یا استنبول میں مذاکرات بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم فی الحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ماہرین کے مطابق جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، جس سے تنازع کے مزید طول پکڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب میدان جنگ میں حملے جاری ہیں، سفارتی حل مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات دوبارہ شروع نہ ہوئے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی بلکہ عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور سیکیورٹی کے مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ کا خاتمہ ابھی دور دکھائی دے رہا ہے اور سفارتی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔



