تازہ ترین

جنگ کے بیچ ایران میں پابندی زدہ جہازوں کی آمد، معاملہ کیا ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین سے ایران آنے والے چند جہاز ایسے کیمیائی مادے لے کر پہنچے ہیں جو بیلسٹک میزائلوں کے ایندھن کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر ایران کی عسکری صلاحیت اور چین کے ممکنہ کردار سے متعلق سوالات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار کی ایک تحقیق کے مطابق ایران کے جھنڈے تلے چلنے والے کم از کم چار پابندی زدہ جہاز حالیہ ہفتوں میں ایرانی بندرگاہوں پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایک اور جہاز ایرانی سمندری حدود کے قریب موجود ہے۔ یہ تمام جہاز چین کے شہر ژوہائی کی گاؤلان بندرگاہ سے روانہ ہوئے تھے، جو کیمیائی ذخائر کے بڑے مراکز میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان جہازوں میں ممکنہ طور پر “سوڈیم پرکلوریٹ” نامی کیمیکل موجود تھا، جو ٹھوس ایندھن والے راکٹ اور بیلسٹک میزائل بنانے میں بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان جہازوں میں لایا گیا مواد مکمل طور پر میزائل پروگرام کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے سینکڑوں نئے میزائل تیار کیے جا سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست کشیدگی اور حملوں کے تبادلے میں مصروف ہے۔ امریکی حکام کے مطابق شدید بمباری کے باوجود ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچر اب بھی فعال حالت میں ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

سابق امریکی محکمہ خزانہ کے عہدیدار میاد ملکی کے مطابق ایران اس وقت میزائل ایندھن کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے اور وہ تیزی سے اپنے ذخائر کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول جاری تنازع کے دوران ایران کی جانب سے ایسے کیمیکلز کی درآمد میں اضافہ ایک متوقع عمل ہے۔

تحقیق میں جن جہازوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب ایران کی سرکاری شپنگ کمپنی “اسلامک ریپبلک آف ایران شپنگ لائنز” (IRISL) سے منسلک ہیں، جو امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی امداد کے لیے عام طور پر غیر پابندی زدہ جہاز استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے ان جہازوں کی نوعیت مزید سوالات کو جنم دیتی ہے۔

ماضی کے ڈیٹا کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس نوعیت کی ایک کھیپ سے 100 سے زائد میزائل تیار کیے جا سکتے ہیں، جبکہ حالیہ جہاز حجم میں بڑے ہونے کی وجہ سے اس سے کہیں زیادہ مواد لے جا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران ممکنہ طور پر اتنا خام مال حاصل کر چکا ہے جس سے وہ سینکڑوں نئے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگرچہ جاری فضائی حملوں کے باعث ایران کی پیداواری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کیمیائی سامان کی مسلسل آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور وہ کسی نہ کسی سطح پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو طول دے سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن اور پابندیوں کی مؤثریت پر بھی نئے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ چین نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کے عالمی سفارتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button