
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس کی تازہ رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ حملوں کے بعد اپنے میزائل بنکرز اور زیرِ زمین تنصیبات کی تیزی سے مرمت کا عمل شروع کر دیا ہے، جس سے اس بات پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا امریکا واقعی ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے اپنے ہدف کے قریب پہنچ سکا ہے یا نہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شدید بمباری کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنے اہم فوجی ڈھانچے کو جزوی طور پر محفوظ رکھا بلکہ متاثرہ مقامات پر فوری مرمت اور بحالی کا عمل بھی شروع کر دیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی زیرِ زمین تنصیبات اور بنکرز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ بڑے حملوں کے بعد بھی جلد فعال ہو سکیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی میزائل صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور وہ اب بھی حملے کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو اس طرح مضبوط بنایا ہے کہ اسے مکمل طور پر تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب جنگی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے میزائل بنکرز کو جلد فعال کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط رکھ سکے گا بلکہ حملوں کا تسلسل بھی برقرار رکھ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی میزائل صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ تاہم نئی معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ زمینی حقائق شاید توقعات سے مختلف ہیں اور ایران کی فوجی حکمت عملی اب بھی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں صرف حملہ کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ دشمن کی بحالی کی صلاحیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ ایران کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح ایک ملک محدود وسائل کے باوجود اپنے دفاعی نظام کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ تنازع طویل ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے تیز رفتار بحالی اور مزاحمت نے جنگ کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات بھی مسلسل زیرِ بحث ہیں۔



