
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایران پر اسرائیل کے خلاف کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام جنگی قوانین کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ایران نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے گنجان آباد علاقوں پر کلسٹر اسلحہ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ متاثرین میں ایک بزرگ جوڑا اور ایک تعمیراتی مزدور بھی شامل ہیں، جبکہ تل ابیب کے قریب ایک اہم فوجی مرکز کے اطراف بھی میزائلوں کے ٹکڑے گرنے کی اطلاعات ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے ماہر پیٹرک تھامسن کے مطابق کلسٹر بموں کا استعمال خاص طور پر شہری علاقوں میں نہایت خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے دھماکہ خیز ذرات کو وسیع علاقے میں پھیلا دیتے ہیں، جو نہ صرف فوری نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ طویل عرصے تک زمین پر موجود رہ کر عام شہریوں کے لیے خطرہ بنے رہتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کی خاصیت یہ ہے کہ ایک ہی میزائل کے اندر کئی چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں، جو ہدف کے قریب پہنچ کر بڑے علاقے میں بکھر جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ فوری طور پر پھٹ جاتے ہیں، جبکہ کچھ زمین پر رہ کر بعد میں بھی دھماکہ کر سکتے ہیں، جس سے شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ برقرار رہتا ہے۔

اگرچہ ہیومن رائٹس واچ نے کلسٹر بموں کے استعمال کے چند واقعات کی تصدیق کی ہے، تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل اسی نوعیت کے تھے، جو اس تنازع میں ہتھیاروں کے استعمال کے رجحان میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کلسٹر بموں کے استعمال پر مکمل پابندی صرف ان ممالک پر لاگو ہوتی ہے جو متعلقہ معاہدے کا حصہ ہیں، جبکہ ایران اور اسرائیل اس معاہدے میں شامل نہیں۔ اس کے باوجود بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت شہری آبادی کو نشانہ بنانا یا ایسے ہتھیار استعمال کرنا جو اندھا دھند نقصان پہنچائیں، غیر قانونی تصور کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے الزامات نہ صرف جنگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر دباؤ میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر شہری ہلاکتوں کے بعد بین الاقوامی برادری کی توجہ اس معاملے پر مزید مرکوز ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر متنازع ہتھیاروں کا استعمال جاری رہا تو اس کے انسانی اور سیاسی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔



